Urdu poetry|iftikhar Arif|abhi kuch din lagy gay

”ابھی کچھ دن لگیں گے۔“

دِل ایسے شہر کے
پامال ھو جانے کا منظر بُھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

جہان رنگ کے سارے خس و خاشاک
سب سرو و صنوبر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

تھکے ھارے ھُوئے
خوابوں کے ساحل پر کہیں
اُمید کا چھوٹا سا اک گھر
بنتے بنتے رہ گیا ھے

وہ اِک گھر بُھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

مگر ، اب دِن ھی کتنے رہ گئے ھیں؟؟
بس اِک دن دل کی لَوحِ منتظر پر
اچانک رات اُترے گی

میری بے نُور آنکھوں کے
خزانے میں چُھپے
ھر خواب کی تکمیل کر دے گی
مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی

اک ایسا خواب
جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا
اک ایسا خواب ، جس کے دامنِ صَد چاک میں
کوئی مبارک ، کوئی روشن دن نہیں تھا

ابھی کچھ دن لگیں گے.
دِل ایسے شہر کے
پامال ھو جانے کا منظر بُھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

”افتخار عارف“

0

Write a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares